لارڈز اور قذافی کرکٹ اسٹیڈیم کو بڑا جھٹکا، حیران کن فیصلہ سامنے آگیا
پی سی بی اور ای سی بی کو فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انگلینڈ کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ اور پاکستان کے قذافی اسٹیڈیم لاہور کی پچز کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دونوں وینیوز کو ایک، ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق لارڈز میں کھیلے گئے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے ٹیسٹ میچ کے دوران پچ پر غیر معمولی سیم موومنٹ اور غیر یکساں باؤنس دیکھنے میں آیا جس کے باعث بیٹنگ انتہائی مشکل ہو گئی۔ میچ میں صرف دو دن کے دوران 33 وکٹیں گرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دوسری جانب لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ون ڈے انٹرنیشنل کی پچ کو بھی مطلوبہ معیار سے کم قرار دیا گیا۔ میچ ریفری کے مطابق پچ غیر معمولی طور پر سست اور نیچی رہی جس کی وجہ سے بیٹرز کے لیے آزادانہ انداز میں رنز بنانا دشوار ہو گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پچ نے میچ کے آغاز سے ہی اسپنرز کو نمایاں مدد فراہم کی۔
آئی سی سی قوانین کے تحت غیر تسلی بخش پچ پر متعلقہ وینیو کو ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا جاتا ہے جو پانچ برس تک ریکارڈ کا حصہ رہتا ہے۔ اگر کسی گراؤنڈ کے ڈیمیرٹ پوائنٹس کی تعداد 6 تک پہنچ جائے تو اسے ایک سال کے لیے بین الاقوامی میچوں کی میزبانی سے محروم کیا جا سکتا ہے جبکہ 12 پوائنٹس کی صورت میں پابندی دو سال تک بڑھ سکتی ہے۔
آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کو فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے 14 دن کی مہلت بھی دی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈیمیرٹ پوائنٹ ریکارڈ پر موجود نہیں تھا اس لیے دونوں وینیوز کے لیے یہ پہلا باضابطہ انتباہ تصور کیا جا رہا ہے۔