لبنان پر اسرائیلی حملے، تہران نے واشنگٹن سے مذاکراتی رابطے بند کرنے کا اعلان کر دیا
تہران ان حملوں کو امریکہ کے ساتھ 8 اپریل کے مبینہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایران نے مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ سفارتی رابطے بھی معطل کر دیے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ روک دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت پیدا ہوئی جس پر تہران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل کی لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت یا پیغام رسانی دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی۔
ایرانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور یہ اقدامات خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران ان حملوں کو امریکہ کے ساتھ 8 اپریل کے مبینہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔