پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
جون میں درآمدات میں اضافے اور ترسیلات زر میں کمی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جون 2026 میں 3 سال کی بلند ترین خسارے کی سطح پر پہنچ گیا اسٹیٹ بینک کے مطابق جون میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں 50 کروڑ ڈالر کے سرپلس کے بعد جون میں کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے میں تبدیل ہوگیا جبکہ مالی سال 2025 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 83 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سرپلس میں تھا۔
ماہرین کے مطابق جون میں درآمدات میں اضافے اور ترسیلات زر میں کمی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا جس سے بیرونی کھاتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی برآمدات 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں جو سالانہ بنیاد پر 5 فیصد کم ہیں جبکہ درآمدات 64 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جو تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب خدمات کی برآمدات 93 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو تقریباً 11 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات میں مسلسل اضافہ اور ترسیلات زر میں کمی نے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھایا جس کے باعث بیرونی توازن متاثر ہوا۔