چینی صدرسے دوبارہ ملاقات؛ تجارتی معاہدے طے، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے، ٹرمپ
آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا نہایت ضروری ہے اور اس حوالے سے کئی پیچیدہ مسائل کا حل نکالا جاچکا ہے
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی اور علاقائی امور پر رابطے مزید تیز ہوگئے ہیں تاہم امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے آج دوبارہ ملاقات کی جس میں انہوں نے صدر شی کے ساتھ حالیہ گفتگو کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔
ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ”شاندار تجارتی معاہدے“ کیے گئے ہیں اور دونوں ممالک کئی اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ امریکا اور چین دونوں نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا نہایت ضروری ہے اور اس حوالے سے کئی پیچیدہ مسائل کا حل نکالا جاچکا ہے جبکہ چینی صدر نے ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ پیش رفت میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ صدر شی جن پنگ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے حامی ہیں جبکہ چین آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور بیجنگ چاہتا ہے کہ خطے میں کشیدگی نہ بڑھے تاکہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ تجارتی تعلقات کو ”منظم“ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹ آف ہرمز، چپس، ٹیرف اور سپلائی چین سمیت مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔
امریکی وزارت تجارت کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا بیجنگ کے لیے بھی اہم ہے جبکہ بعض ٹیرف بدستور برقرار رہیں گے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمسن گریر نے کہا کہ چین سویابین کی خریداری سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے، کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
