برطانوی میڈیا میں تہلکہ خیز انکشاف، ٹیک سیکٹر میں بھارتیوں کو جعلسازی کے ذریعے ملازمتیں

برطانوی میڈیا میں تہلکہ خیز انکشاف، ٹیک سیکٹر میں بھارتیوں کو جعلسازی کے ذریعے ملازمتیں

امریکی ٹیک ورکرز کی جگہ بتدریج غیر ملکی افرادی قوت، بالخصوص بھارت سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو دی جا رہی ہے

برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھرتی کے عمل سے متعلق ایسے دعوے سامنے آئے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض نیٹ ورکس پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ملازمتوں کے حصول کے لیے انٹرویو کے دوران دیے جانے والے سوالات اور اندرونی معلومات کو مبینہ طور پر غیر رسمی طور پر شیئر کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان دعوؤں کے مطابق بعض بھارت نواز افراد مبینہ طور پر بھرتی کے عمل کی خفیہ معلومات اپنے قریبی حلقوں تک پہنچاتے ہیں، جس سے میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

اسی رپورٹ میں گوگل کے سابق کنٹریکٹر اسٹیون ایجنگٹن کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی ٹیک ورکرز کی جگہ بتدریج غیر ملکی افرادی قوت، بالخصوص بھارت سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر امریکی ملازمین کو نئے آنے والے اسٹاف کی تربیت بھی دی گئی۔

رپورٹ کے بعد امریکہ میں ایچ ون بی ویزا پروگرام اور امیگریشن پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر ملکی ملازمین کے بڑھتے ہوئے کردار کو لے کر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ان الزامات کی باقاعدہ تصدیق ہو جاتی ہے تو بھرتی کے نظام میں شفافیت، سخت نگرانی اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے نئے اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔

Related posts

ہاکی کے سُنہرے دن واپس لانے کے لیے پی ایچ ایف نے بڑا فیصلہ کر لیا

پاکستان والی بال ٹیم کاوا چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئی

ایک سال میں گردشی قرضہ 779 ارب روپے کم، بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں بھی گراوٹ