برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر دباؤ بڑھ گیا، مزید وزرا مستعفی
محض نیک نیتی کافی نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلے اور مضبوط قیادت ضروری ہے، جیس فلپس
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جب کہ حکمران جماعت کے کئی ارکان پارلیمان کی جانب سے استعفے کے مطالبات کے بعد مزید وزرا نے بھی اپنے عہدے چھوڑ دیے۔
برطانیہ میں حفاظتی امور کی وزیر جیس فلپس نے اپنے استعفے میں کہا کہ صرف باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات اہم ہوتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے معاملے پر کئی اہم تجاویز ایک سال سے زیر غور رہیں لیکن حکومت فیصلہ کن قدم اٹھانے میں ناکام رہی۔
انہوں نے لکھا کہ بچوں کو برہنہ تصاویر بنانے سے روکنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی موجود ہے تاہم حکومت صرف قانون سازی کی دھمکی تک محدود رہی، سست فیصلوں کے باعث کئی بچے تحفظ سے محروم رہے۔
انہوں نے کیئر اسٹارمر کو اچھا انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض نیک نیتی کافی نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلے اور مضبوط قیادت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت عوام کی توقعات کے مطابق تبدیلی لانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے وہ حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتیں۔
دوسری جانب متاثرین کے امور کی وزیر ایلکس ڈیوس جونز نے بھی استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ انتخابی نتائج حکومت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں اور عوام کا پیغام واضح ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدگی کے لیے باقاعدہ وقت کا اعلان کریں۔
اس سے قبل کمیونٹیز امور کی وزیر بھی حکومت چھوڑ چکی ہیں جس کے بعد اسٹارمر حکومت کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حکمران جماعت کے 80 سے زائد ارکان پارلیمان یا تو وزیراعظم کے استعفے یا پھر ان کی رخصتی کے شیڈول کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ اگر جماعت کے کم از کم 81 ارکان باضابطہ طور پر چیلنج کریں تو قیادت کے لیے نیا انتخاب بھی ہوسکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں وزارتِ صحت کے سربراہ ویس اسٹریٹنگ، سابق نائب وزیراعظم اینجلا رینر اور گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کو ممکنہ متبادل رہنماؤں کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔
