ہنٹا وائرس زدہ کروز شپ کے مسافروں کو کہاں منتقل کیا جائے گا؟ بڑا فیصلہ سامنے آ گیا
جہاز میں ایندھن بھرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور روانگی سے قبل ضروری سامان کی فراہمی جاری ہے
ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ سے متاثرہ کروز شپ ایم وی ہونڈیئس کے باقی ماندہ تمام مسافروں کو نیدرلینڈز منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ آسٹریلیا کیلئے مجوزہ خصوصی پرواز منسوخ ہونے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
اسپین کی وزیر صحت مونیکا گارشیا نے ٹینیریف میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں دو خصوصی پروازوں کا منصوبہ بنایا گیا تھا جن میں ایک آسٹریلیا اور دوسری نیدرلینڈز کیلئے تھی تاہم آسٹریلوی طیارہ مقررہ وقت سے قبل نہیں پہنچ سکا جس کے باعث اب تمام مسافروں کو نیدرلینڈز بھیجا جائے گا۔
وزیر صحت کے مطابق اس وقت جہاز پر 54 افراد موجود ہیں جن میں سے 22 کو فوری طور پر اتارا جائے گا جبکہ 32 افراد بعد ازاں نیدرلینڈز روانہ ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود افراد میں صرف 6 مسافر شامل ہیں جن میں 4 آسٹریلوی، ایک برطانوی اور ایک نیوزی لینڈ کا شہری شامل ہے باقی عملے کے ارکان مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
مونیکا گارشیا نے بتایا کہ جہاز میں ایندھن بھرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور روانگی سے قبل ضروری سامان کی فراہمی جاری ہے جبکہ جہاز کے بندرگاہ چھوڑتے ہی پورٹ پر مکمل جراثیم کش کارروائی شروع کر دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میڈرڈ کے گومیز اولا اسپتال میں قرنطینہ کیے گئے 14 ہسپانوی شہریوں کی حالت بہتر ہے اور ان کے پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اسپین کی وزیر صحت کے مطابق فرانس پہلے ہی ایک متاثرہ مسافر میں ہنٹا وائرس کی تصدیق کر چکا ہے جبکہ امریکا میں بھی ایک مسافر میں ہلکی علامات اور مشتبہ مثبت ٹیسٹ رپورٹ سامنے آئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہنٹا وائرس کی علامات 42 روز تک ظاہر ہو سکتی ہیں اس لیے مزید کیسز سامنے آنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
حکام کے مطابق وائرس سے متاثرہ یہ مخصوص اینڈیز وائرس قریبی انسانی رابطے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے خصوصاً بند ماحول میں جبکہ عام طور پر ہنٹا وائرس چوہوں یا ان کے فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔
