آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھنے کا امکان، انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز
تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 425 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرایا
اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی منصوبے میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر غور کررہی ہے جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے سے گریز کیے جانے کا امکان ہے۔
نجی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی خواہش ہے کہ تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے اور ممکنہ طور پر قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بھی بڑھائی جائے تاکہ انہیں ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں کئی ملازمین زیادہ ٹیکس کی شرح والے درجوں میں چلے جاتے ہیں جس کے باعث ان کی حقیقی آمدن میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑتا۔ اسی لیے حکومت تنخواہ بڑھانے کے بجائے ٹیکس میں کمی کے ذریعے ریلیف دینے پر غور کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے جب کہ نجی شعبے میں مہنگائی اور کمزور معاشی صورتحال کے باعث اجرتوں میں نمایاں اضافہ نہیں ہوسکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 425 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرایا جو جائیداد کے شعبے، تھوک و پرچون کاروبار اور برآمد کنندگان سے حاصل ہونے والی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں بھی مزید کمی پر غور کررہی ہے تاہم حتمی فیصلے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ 15 مئی سے شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت کو تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے باعث 170 ارب روپے سے زائد اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا تھا جب کہ صوبوں پر اس سے بھی زیادہ اخراجات آئے۔
