ایران اب تک 9 مرتبہ تجارتی جہازوں پر حملہ کر چکا ہے، امریکی جنرل
امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کا گھیراؤ جاری ہے
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان صورتحال تیزی سے بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے امریکی جنگی جہازوں پر 10 مرتبہ حملے کی کوشش کی جبکہ تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نہ صرف حملوں میں ملوث ہے بلکہ اس وقت 2 تجارتی جہازوں کو قبضے میں بھی لے رکھا ہے۔ ان کے مطابق ایران اب تک 9 مرتبہ کمرشل شپنگ پر حملے کر چکا ہے اور جان بوجھ کر خطے کے دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر شروع کیا گیا پروجیکٹ فریڈم ایک دفاعی اور عارضی مشن ہے جس کا مقصد خطے میں بحری راستوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کا کسی اور ملک کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں، تاہم ایران کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے اور ایران کو یہاں ٹیکس وصول کرنے یا کنٹرول قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کا گھیراؤ جاری ہے اور امریکی ڈسٹرائرز کو سینکڑوں جہازوں کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی کے باعث تقریباً 22 ہزار 500 ملاح پھنس کر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اگر فوری طور پر محصور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کرتا تو امریکا اپنی بحری طاقت کے ذریعے ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق ایران سیزفائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ امریکا اب بھی جنگ سے گریز چاہتا ہے، تاہم صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔
