امریکا کا حملہ دفاع نہیں بلکہ کھلی جارحیت ہے، ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کردیا
اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دے دیا
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دے دیا ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کو کسی صورت دفاعِ خودی یا سیلف ڈیفنس کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے اپنے بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک دستاویز کا حوالہ دیا جس میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ امریکا نے یہ کارروائی اپنے اتحادی اسرائیل کے اجتماعی دفاع اور اپنے حقِ دفاع کے تحت کی۔
‘Self-defense’ against what? Was there any ‘armed attack’ by Iran to justify ‘self defense’?
Definitely not!
So this was absolutely NOT ‘self-defense’ — it was an act of AGGRESSION against the nation of Iran. pic.twitter.com/iPemdStD71— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) May 1, 2026
اسماعیل بقائی نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر کس چیز کے خلاف دفاع کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے کوئی مسلح حملہ نہیں کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اس کارروائی کو جائز قرار دیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال دفاع نہیں بلکہ ایران کے خلاف کھلی جارحیت ہے اور ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
