بیجنگ میں ڈرون اُڑانا خواب بن گیا، چین نے اچانک سخت پابندیاں لگا دیں
بڑی ڈرون بنانے والی کمپنی DJI نے بھی بیجنگ میں اپنی دکانوں سے ڈرون اور متعلقہ مصنوعات ہٹانا شروع کر دی ہیں
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ڈرون استعمال کرنے والوں کے لیے بڑا جھٹکا سامنے آگیا ہے، جہاں حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈرون کی خرید و فروخت اور استعمال پر سخت ترین پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
نئے قوانین کے تحت نہ صرف ڈرون بیچنے اور کرائے پر دینے پر پابندی ہوگی بلکہ شہریوں کو اپنے ڈرون پولیس کے پاس رجسٹر کروانا بھی لازمی ہوگا۔ حکام کے مطابق بغیر اجازت ڈرون اُڑانا ممکن نہیں رہے گا اور ہر فلائٹ سے پہلے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اگر کوئی شہری اپنا ڈرون مرمت کے لیے شہر سے باہر بھیجے گا تو اسے خود جا کر واپس لینا ہوگا ہوم ڈیلیوری کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
چین میں ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اسے لو آلٹیٹیوڈ اکانومی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جس کے تحت 2035 تک 2 ٹریلین یوآن سے زائد کی معیشت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ڈرون انڈسٹری کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب سیکیورٹی کے نام پر سخت کنٹرول بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی ڈرون بنانے والی کمپنی DJI نے بھی بیجنگ میں اپنی دکانوں سے ڈرون اور متعلقہ مصنوعات ہٹانا شروع کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ چین میں پہلے ہی لاکھوں ڈرون رجسٹرڈ ہیں اور انہیں خوراک کی ترسیل، زراعت اور عمارتوں کی صفائی جیسے کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اب بیجنگ ان چند شہروں میں شامل ہو گیا ہے جہاں ڈرون اُڑانا سب سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
