سانحہ مچھیل! مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کی ایک المناک داستان
مقبوضہ کشمیر میں آج بھی فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیاں روز کا معمول ہیں
سانحہ مچھیل کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی اور سیاسی شعور کا ایک لازوال باب ہے۔
30 اپریل 2010 کو مچھیل میں 3 بےگناہ کشمیری بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہوئے، کشمیری نوجوان شہزاد خان، محمد شفیع اور ریاض لون کو روزگار کا جھانسہ دے کر قابض افواج نےجعلی مقابلے میں شہید کیا۔
قابض بھارتی فوج معصوم کشمیریوں کو شہید کرکے نام نہاد “کامیاب انکاؤنٹر” کا دعویٰ کرتی رہی، مقبوضہ وادی میں وسیع پیمانے پر احتجاج اور عالمی توجہ نے قابض بھارتی حکام کو واقعے کی تحقیقات پر مجبور کردیا۔
مقبوضہ کشمیر میں آج بھی فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیاں روز کا معمول ہیں، بھارتی مظالم نے کشمیریوں کو ان کی منزل پاکستان سے وابستگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔