واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے نے بتایا کہ دفاعی بجٹ کا حجم تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر ہے جب کہ امریکی افوج کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کررہے ہیں۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر دفاعی بجٹ اور فوجی امور پر بریفنگ دی۔
دونوں رہنماؤں نے دفاعی تیاریوں، ایران سے کشیدگی اور فوجی کارکردگی پر تفصیلی مؤقف پیش کیا۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا دفاعی بجٹ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس کا مقصد امریکا کو ہر خطرے سے محفوظ بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بجٹ کا حجم تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر ہے جو موجودہ حالات اور جنگی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی افواج کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے تاکہ فوجیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع میں اصلاحات کے تحت نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا ہے اور 70 ہزار نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جارہے ہیں۔
وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا جارہا ہے اور بیوروکریسی کے بجائے کاروباری انداز اپنایا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید دفاعی نظام کی تیاری اور فوج کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرسکے جب کہ جنگ کو بقاء کی جنگ قرار دیا۔
دوسری جانب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی افواج کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران فوجیوں کی ہمت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوج ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ور فورس ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی قیادت ہمیشہ حقائق پر مبنی مشورے دیتی ہے اور وہی بات کہتی ہے جو ضروری ہو، نہ کہ وہ جو سننا پسند کی جائے۔
انہوں نے مرنے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
