عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی ہلچل، متحدہ عرب امارات نے اوپیک کو خیر باد کہہ دیا
عالمی منڈی کے استحکام کے حوالے سے امارات کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی، یو اے ای
متحدہ عرب امارات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی 2026 سے اوپیک اور پلس اوپیک اتحاد سے دستبردار ہو جائے گا۔
اماراتی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر کیا گیا ہے جس کا مقصد مقامی پیداوار میں اضافہ اور عالمی توانائی منڈی میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیداوار پالیسی، موجودہ اور مستقبل کی صلاحیت اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں جغرافیائی کشیدگی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔
امارات نے واضح کیا کہ تنظیم سے علیحدگی کے باوجود وہ ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد تیل پیدا کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق بتدریج اور محتاط انداز میں پیداوار بڑھائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملک کے پاس وسیع اور مسابقتی وسائل موجود ہیں اور وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا تاکہ معاشی ترقی اور تنوع کو فروغ دیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے سے عالمی منڈی کے استحکام کے حوالے سے امارات کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ اس سے بدلتی ہوئی مارکیٹ ضروریات کے مطابق فوری ردعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
امارات نے اوپیک اور پلس اوپیک کے ساتھ پانچ دہائیوں پر محیط تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی مفادات، سرمایہ کاری شراکت داروں اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تیل و گیس کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور کم کاربن حل میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی تاکہ مستقبل کے توانائی نظام کو مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے۔