امن مذاکرات تعطل کا شکار، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خطرناک چھلانگ
عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر تیزی سے اوپر کی جانب سفر شروع کر دیا ہے جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو عالمی معیشت کے لیے تشویشناک اشارہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن نے پاکستان میں ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے بھیجے جانے والے وفد کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے جس کے بعد سفارتی حل کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔
دوسری جانب، ایران اور عمان کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور اہم بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی گزرتی ہے عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بندش طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزمرہ اشیاء سے لے کر ادویات تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔
ادھر عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کار کسی ٹھوس پیش رفت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محض عارضی جنگ بندی یا بیانات کے بجائے حقیقی اور قابلِ اعتماد اقدامات ہی مارکیٹ کو استحکام دے سکتے ہیں۔
