اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے مستقل معاہدہ چاہتے ہیں، ٹرمپ

اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے مستقل معاہدہ چاہتے ہیں، ٹرمپ

ایران کو بہتر معاہدے کے لیے ایک اور موقع دیا جا رہا ہے اور معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی اور پائیدار معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی قیادت کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے، لبنان میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دفاع کا حق حاصل ہوگا۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حزب اللہ کی مالی معاونت بند کرے، آئندہ تین ہفتوں میں لبنانی صدر اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات بھی ممکن ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ عالمی کشیدگی کے باوجود امریکی معیشت مضبوط ہے اور ملک تیل کی پیداوار میں روس اور سعودی عرب سے بھی آگے ہے، امریکا کو تیل کی کمی کا سامنا نہیں اور وینزویلا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک بحری جہاز کو تحویل میں لیا گیا تھا جس سے اہم اشیاء برآمد ہوئیں تاہم تفصیلات خفیہ رکھی گئیں۔ امریکی ناکہ بندی مؤثر طریقے سے جاری ہے اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کی جانب سے یہاں بارودی سرنگیں بچھانا ایک سنگین غلطی ہوگی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو بہتر معاہدے کے لیے ایک اور موقع دیا جا رہا ہے اور معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور ملک اندرونی مشکلات کا شکار ہے، کچھ عرصے کے لیے گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف اہداف کا تقریباً 75 فیصد حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ امریکی فوج ایک دن میں اس کی عسکری صلاحیت ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہے، امریکا ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی بلکہ ایک مضبوط اور دیرپا امن معاہدہ ترجیح ہوگا۔

Related posts

ایک معمولی کار حادثہ تھا؟ دبئی اور متحدہ عرب امارات میں اس کی اطلاع کیسے دیں۔

امریکی قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز اور عملے کو پاکستان کے حوالے کردیا گیا، امریکی میڈیا

ہرمز میں مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، ایران کا امریکا کو سخت پیغام