امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد کوئی اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، کل کوئی سرپرائز ہوسکتا ہے، کل کوئی اہم شخصیت وائٹ ہاؤس آرہی ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا ہے اور تہران کے ساتھ ڈیل پر کام تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور باقی رہ جانے والے اختلافات زیادہ اہم نوعیت کے نہیں، معاہدہ طے پاتے ہی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور امریکا اس حوالے سے مکمل یقین دہانی حاصل کرے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تباہ کیے گئے جوہری تنصیبات کی باقیات بھی واپس لائی جائیں گی اور اس معاہدے میں کسی مالی لین دین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے نیٹو سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ انہیں نیٹو کی کال موصول ہوئی تاہم ان کے بقول امریکا کو نیٹو کی نہیں بلکہ نیٹو کو امریکا کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں عظیم شخصیات قرار دیا۔
آخر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وہ امن کے حامی ہیں اور انہوں نے پاک بھارت سمیت آٹھ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا جس سے لاکھوں جانیں بچیں۔
