ایران کا دباؤ رنگ لے آیا، لبنان میں آج جنگ بندی کا امکان، غیر ملکی میڈیا
ذرائع نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے، خاص طور پر نیتن یاہو کی جانب سے
لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران آج رات جنگ بندی کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیچھے ایران کے دباؤ اور سفارتی کوششوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی سیاسی و سیکیورٹی ذریعے نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ مسلسل رابطوں اور دباؤ کے نتیجے میں جنگ بندی کی منظوری متوقع ہے، جو آج رات سے نافذ ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ جنگ بندی ایک ہفتے کے لیے ہوگی اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری سیز فائر کی مدت تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے، خاص طور پر نیتن یاہو کی جانب سے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں بھی ایسے معاملات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
ایرانی ذریعے کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں واشنگٹن کو مرکزی کردار حاصل ہے، جو نہ صرف اس عمل کا ضامن ہے بلکہ اسرائیل پر اثر انداز ہو کر معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا ذمہ دار بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ممکنہ جنگ بندی کے اعلان نے خطے میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، تاہم خدشات اب بھی برقرار ہیں کہ کسی بھی مرحلے پر صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔