تیل بحران نے آسٹریلیا کی معیشت ہلا دی، ٹرانسپورٹ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر
متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مطابق اخراجات دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں
آسٹریلیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں نے ملک کی اہم فریٹ اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں کاروبار چلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے، خاص طور پر ایران سے جڑے تنازع کے بعد، آسٹریلیا میں ایندھن کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ اس صورتحال نے خاص طور پر طویل فاصلے تک سامان لے جانے والے ٹرک آپریٹرز کو بری طرح متاثر کیا ہے، کیونکہ ان کا مکمل انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے۔
متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مطابق اخراجات دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف منافع ختم ہو رہا ہے بلکہ کاروبار بند ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
اس سنگین صورتحال پر اینتھونی البانیز نے ایک غیر معمولی قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتیں اور جہاں ممکن ہو پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لیں تاکہ محدود وسائل کو سنبھالا جا سکے۔
تاہم زمینی حقائق اس اپیل سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرکنگ انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ حکومتی بیانات سے زیادہ انہیں عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے اور وہ اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بحران جلد قابو میں نہ آیا تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔