مہنگائی بڑھ کر 8.4 فیصد تک جاسکتی ہے، آئی ایم ایف نے خبردار کردیا
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معاشی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے، آئی ایم ایف
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی سالانہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2026 جاری کردی ہے جس کے مطابق پاکستان میں مہنگائی بڑھ کر 8.4 فیصد تک جاسکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معاشی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رواں سال عالمی ترقی کی رفتار 0.2 فیصد کم ہوکر 3.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مشرق وسطیٰ تنازع کی مدت اور شدت ہی مستقبل کی معاشی صورتحال کا تعین کرے گی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بھی معاشی شرح نمو سست رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال پاکستان میں معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ حکومت نے اس سال ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا ہے۔
مہنگائی بڑھنے کا خدشہ
مہنگائی کے حوالے سے آئی ایم ایف نے بتایا کہ رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی 7.2 فیصد ہوسکتی ہے۔ اگلے مالی سال مزید تشویشناک صورتحال ہوسکتی ہے جب مہنگائی بڑھ کر 8.4 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ مالی سال مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
بیروزگاری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
بیروزگاری کے حوالے سے آئی ایم ایف نے بتایا کہ پاکستان میں اس سال بیروزگاری 7.1 فیصد سے کم ہوکر 6.9 فیصد رہے گی۔ اگلے مالی سال بے روزگاری مزید کم ہوکر 6.5 فیصد پر آسکتی ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال یہ خسارہ جی ڈی پی کا 0.4 فیصد ہوسکتا ہے جب کہ اگلے سال یہ بڑھ کر 0.9 فیصد تک جاسکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی سپلائی اور مارکیٹس متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئی ترجیحات کے تعین پر زور دیا ہے۔