ایران کے نئی سپریم لیڈر شدید زخمی ہیں، غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ
ان کی ٹانگوں اور چہرے پر شدید زخم آئے ہیں اور وہ اب بھی صحت یاب ہورہے ہیں، غیر ملکی میڈیا
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو لے کر چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر امریکی و اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے جس سے ان کی ٹانگوں اور چہرے پر شدید زخم آئے ہیں اور وہ اب بھی صحت یاب ہورہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ حملہ 28 فروری کو ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای تو شہید ہوگئے تھے جب کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بہت گہری چوٹیں آئی ہیں۔
رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا چہرہ اس قدر بگڑ گیا ہے کہ پہچاننا مشکل ہے۔ ایک یا دونوں ٹانگیں بھی بری طرح زخمی ہوئی ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید ان کی ایک ٹانگ ہی ضائع ہوگئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنانے کے بعد سے آج تک ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آواز بھی سامنے نہیں آئی تاہم وہ ذہنی طور پر پہلے جیسے ہی تیز ہیں اور آڈیو کانفرنس کے ذریعے اہم اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔
خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے ابھی تک ان کی صحت کے حوالے کچھ نہیں بتایا۔ صرف ایک بار سرکاری ٹی وی پر انہیں ’’جانباز‘‘ کہہ کر پکارا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وہ کب عوام کے سامنے آتے ہیں۔ شاید ایک یا دو ماہ بعد ان کی تصاویر جاری ہوں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی صحت اور سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو۔
