پاکستان دنیا میں امن کا پیامبر بن گیا، امریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضا مند ہو گئے
امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، امریکی صدر
پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جسے عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں اعلان کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران میں تباہی روکنے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل، فوری اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے، اور یہ ایک دوطرفہ جنگ بندی ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز کو قبول کر لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس، بشمول دی نیویارک ٹائمز کے مطابق اس جنگ بندی کی تجویز کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کر رہی ہے۔
