غزہ کا مزید 70 فیصد علاقہ قبضے میں لینے کا حکم، نیتن یاہو کے بیان نے دنیا کو ہلا دیا
نیتن یاہو کے اس اعلان پر تقریب میں موجود افراد نے پورے غزہ پر قبضے کے نعرے بھی لگائے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ایک ایسا بیان دے دیا ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی کا خدشہ بڑھ گیا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ کے 70 فیصد علاقے پر مرحلہ وار کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج پہلے 50 فیصد علاقے میں موجود تھیں، اب یہ تناسب 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اگلا ہدف 70 فیصد ہے۔
نیتن یاہو کے اس اعلان پر تقریب میں موجود افراد نے پورے غزہ پر قبضے کے نعرے بھی لگائے جبکہ دوسری جانب فلسطینی حلقوں نے اس بیان کو جنگ بندی معاہدے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
ادھر حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی حدود تبدیل کرکے زمینی حقائق بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مستقل فوجی کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کے باعث غزہ کے تقریباً 20 لاکھ فلسطینی مزید محدود علاقوں میں محصور ہو سکتے ہیں جہاں پہلے ہی خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی شدید قلت ہے۔
دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ وہ حماس کی عسکری طاقت ختم کرنے تک کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر حملوں میں شامل تمام افراد کو ہر جگہ نشانہ بنایا جائے گا۔
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، جبکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے کے بعد بھی سیکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں۔
