امریکا کے ساتھ مذاکرات سے قبل ایران کے سخت مطالبات سامنے آگئے

امریکا کے ساتھ مذاکرات سے قبل ایران کے سخت مطالبات سامنے آگئے

ایران نے امریکا سے اپنے اہم مطالبات منوانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردیں

ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے قبل اپنے اہم مطالبات منوانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے انہیں مزید جامع بنا دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے یہ تجاویز پانچ نکات پر مشتمل تھیں تاہم اب امریکا کی پندرہ نکاتی پیشکش کے جواب میں ایران نے دس نکات پر مبنی فریم ورک تیار کیا ہے ان نکات میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر محدود لچک اور آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری گزرگاہ کے لیے باقاعدہ پروٹوکول شامل ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس بحری گزرگاہ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک کی تعمیر نو اور حالیہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے ازالے پر خرچ کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے خطے میں مستقل امن کا خواہاں ہے۔

تاہم اس مقصد کے لیے ایران کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا اطلاق پورے خطے پر ہونا چاہیے جس میں ہمارے اتحادی گروہ بھی شامل ہوں گے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان بنیادی نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر ابتدائی سطح پر ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو وہ بامعنی مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں: ایک رات میں ایران کو ختم کر سکتے ہیں شاید وہ رات کل ہو سکتی ہے، ٹرمپ

Related posts

وائٹ ہاؤس نے جنگ بندی کے ڈرافٹ سے متعلق ایرانی میڈیا کی رپورٹس کو من گھڑت قرار دے دیا

ویمنز ٹرائی نیشن کرکٹ سیریز، پاکستان ٹیم ڈبلن میں ایکشن کے لیے تیار

خفیہ ڈرافٹ کی تفصیلات لیک؟ ایرانی رکن پارلیمنٹ کے دعووں نے عالمی سیاست ہلا دی