امریکا میں موبائل فری ریسٹورنٹس کا نیا ٹرینڈ، لوگ اسکرین چھوڑ کر زندگی جینے لگے
اس وقت امریکا کی کم از کم 11 ریاستوں میں ایسے ریسٹورنٹس اور بارز موجود ہیں
امریکا میں ایک دلچسپ اور تیزی سے مقبول ہوتا رجحان سامنے آیا ہے جہاں بارز اور ریسٹورنٹس میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی یا اس کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، تاکہ لوگ اسکرین سے دور ہو کر حقیقی زندگی کا لطف اٹھا سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹرینڈ ایک بڑے سماجی تبدیلی کا حصہ ہے، جہاں کئی ممالک بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا رہے ہیں، جبکہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں اسکولوں میں فون کے استعمال کو بھی محدود کیا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے سے گفتگو میں فوڈ ٹرینڈ ایکسپرٹ کارا نیلسن نے بتایا کہ اس تبدیلی کے پیچھے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے متعلق بڑھتے شواہد ہیں، جو سیکھنے، یادداشت، سماجی روابط اور خود اعتمادی کو متاثر کرتے ہیں۔
2024 کے ڈیٹا کے مطابق امریکی شہری روزانہ اوسطاً 144 بار اپنا فون چیک کرتے ہیں اور تقریباً 4.5 گھنٹے اسکرین پر گزارتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جینزی اس ٹرینڈ کو سب سے زیادہ اپنا رہی ہے، جہاں 63 فیصد نوجوان جان بوجھ کر ڈیجیٹل دنیا سے وقفہ لیتے ہیں۔ اس کے بعد 57 فی صد ملینیئلز، 42 فی صد جنریشن ایکس جبکہ 29 فی صد بے بی بومرز اس رجحان کا حصہ ہیں۔
اس وقت امریکا کی کم از کم 11 ریاستوں میں ایسے ریسٹورنٹس اور بارز موجود ہیں جہاں فون کے استعمال پر پابندی کی ترغیب دی جاتی ہے، واشنگٹن ڈی سی اس حوالے سے سرفہرست ہے، جبکہ کیلی فورنیا، نیویارک اور ٹیکساس سمیت دیگر ریاستوں میں بھی یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ٹرینڈ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل بریک موومنٹ ہے جہاں لوگ دوبارہ اصل دنیا میں جینے، بات چیت کرنے اور لمحوں کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
