ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے؛ تل ابیب میں موساد ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ خطے میں میزائل حملوں اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جب کہ سفارتی سطح پر بھی تناؤ برقرار ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں، بشمول تل ابیب، پر تازہ میزائل حملے کیے جن کے بعد متعدد علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ جنوبی اسرائیل کے علاقے نیگیو اور شمالی علاقوں میں سائرن بجنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں نیگیو کے صنعتی زون اور وسطی اسرائیل کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا جب کہ روش ہائین اور پیتاح تکوا سمیت مختلف علاقوں میں بھی تباہی کی اطلاعات ہیں۔

ایران کی جانب سے موساد کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تاہم اس حوالے سے آزاد یا بین الاقوامی ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو فیکٹ چیکرز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے 48 گھنٹوں کی جنگ بندی کی ایک امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے جو مبینہ طور پر کسی تیسرے ملک کے ذریعے پیش کی گئی تھی۔

 امریکی میڈیا کے مطابق سفارتی کوششوں کا ایک دور بھی ختم ہو چکا ہے جب کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات سے بھی انکار کیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مطالبات ناقابل قبول ہیں اور اس حوالے سے ثالثوں کو باضابطہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ایرانی صدر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جب وہ امریکی عوام سے خطاب کر رہے تھے اسی دوران ملک کی اسٹریٹجک کونسل کے سربراہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں ان کی اہلیہ جاں بحق ہوئیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کون مذاکرات کا خواہاں ہے اور کون دہشت گردی کر رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی، حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جن میں سرحدی علاقوں عیناتا، مارون الراس اور دیگر مقامات شامل ہیں۔

مزید برآں ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک ہی دن میں امریکی فضائیہ کے 6 طیارے مار گرائے تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آبنائے باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے عالمی تجارت، تیل، ایل این جی، گندم، چاول اور کھاد کی ترسیل میں اس گزرگاہ کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔

مجموعی طور پر خطے میں فوجی کشیدگی، اطلاعاتی جنگ اور سفارتی تعطل ایک پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں حقائق اور دعوؤں کی تصدیق بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

 

 

Related posts

دباؤ اور جبر سے ایران کوہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا وہم کے سوا کچھ نہیں، ایرانی صدر

وارنر برادرز ورلڈ یاس آئی لینڈ، ابوظہبی نے 2026 میں بہترین تھیم پارک کا ایوارڈ جیت لیا

‘شکریہ، دبئی’: رہائشی غیر مقفل کار پر واپس آیا – اور چابی کو ہڈ پر بحفاظت انتظار میں پایا