جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار غیر ملکی جہازوں نے آبنائے ہرمز پار کر لی

جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار غیر ملکی جہازوں نے آبنائے ہرمز پار کر لی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ فرانسیسی اور جاپانی ملکیت والے جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد پہلی بار غیر ملکی تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جسے خطے میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کی ابتدائی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ فرانسیسی اور جاپانی ملکیت والے جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد عملی طور پر محدود ہو گئی تھی۔ یہ گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

جہاز رانی کے ڈیٹا فراہم کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق فرانسیسی کمپنی کے جہاز نے بحفاظت خلیجی پانیوں سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس جہاز نے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے اپنے ٹرانسپونڈر پر منزل کی بجائے “اونر فرانس” کا پیغام نشر کیا۔

بحری امور کے جریدے لائیڈز لسٹ کے مطابق فرانسیسی جہاز نے وہ راستہ اختیار کیا جسے ماہرین “تہران ٹول بوتھ” قرار دے رہے ہیں یعنی ایسا روٹ جو ایرانی حدود سے گزرتا ہے اور جس کے لیے غیر رسمی منظوری ضروری سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب جاپانی کمپنی کے اشتراک سے چلنے والے ایک ٹینکر سمیت دیگر جہازوں نے عمان کے ساحلی راستے کو ترجیح دی، ان میں شامل “سوہار ایل این جی” جنگ کے آغاز کے بعد خلیج سے نکلنے والا پہلا جاپانی جہاز قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان جہازوں نے اپنی شناخت کو مخفی رکھنے کے لیے سگنلز میں خود کو عمانی جہاز ظاہر کیا۔

واضح رہے کہ عام حالات میں آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے ہیں تاہم یکم مارچ کے بعد سے یہ تعداد کم ہو کر صرف 221 رہ گئی ہے۔ موجودہ نقل و حمل میں تقریباً 60 فیصد جہاز یا تو ایران سے آ رہے ہیں یا وہاں جا رہے ہیں جو خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات نے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کی، عراق پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو روکے

ہماری توجہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پرمرکوزہے، ایرانی وزارت خارجہ

آج دبئی میں گرد آلود موسم سے محفوظ رہیں، NCM کا مشورہ