امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یوٹرن لیتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود، امریکا اپنے فوجی اور اقتصادی اقدامات کے ذریعے ایرانی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ جب ہم محسوس کریں گے ایران پتھر کے زمانوں میں چلا گیا ہے تو ہم چلےجائیں گے۔
ایران کو 20 سال پیچھے دھکیل دیا
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے، وہ اسے 20 سال پیچھے لے گیا ہے اور اگر ایران ایٹمی ہتھیاروں کی راہ پر گیا تو امریکا فوری ردعمل دے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب لگے گا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ٹل گیا ہےتو ہم بغیر کسی ڈیل کے بھی چلے جائیں گے، ممکن ہےکہ ڈٰیل ہوجائے کیونکہ ایران ڈیل چاہتا ہے، ایران کو جتنی ڈیل کی ضرورت ہے، اتنی مجھے نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تو ممکنہ طور پر ڈیل ہو سکتی ہے، لیکن امریکی مفادات کے لیے یہ ضروری نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی ترجیح ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام ہے، نہ کہ رجیم چینج۔
خطے میں صورتحال اور آبنائے ہرمز
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے خطے میں جاری جنگ سے امریکا2 سے 3 ہفتوں میں نکل جائے گا اور آبنائے ہرمز کو ہر ملک کے لیے محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی قوتوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اور چین سمیت جس کو بھی تیل یا گیس چاہیے تو وہ جائیں اور آبنائے ہرمز سے لے لیں، امریکہ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
امریکی داخلی سیکیورٹی
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دروازے، کھڑکیاں، چھت اور ڈرون پروف اقدامات کے ساتھ ساتھ بلٹ پروف شیشے، بم شیلٹر اور اسپتال بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی اب امریکا کا محفوظ ترین شہر بن چکا ہے، اور جرائم میں 98 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
میل ووٹنگ اور انتخابات
صدر ٹرمپ نے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے میل ووٹنگ پر کریک ڈاؤن کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے، جس میں ووٹرز کی شہریت کی سخت جانچ اور ووٹنگ کے طریقہ کار کی نگرانی شامل ہے۔
معاشی اثرات
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ امریکا کی محفوظ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ گیس کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ امریکا کی ترجیح عوام اور ملکی حفاظت ہے۔
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے آخر میں کہا کہ ایران میں اب شدت پسند گروپ پہلے کی طرح نہیں ہے، امریکا نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے، اور ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام ان کا اصل مقصد تھا۔
