امریکا اور اسرائیل کو دنیا کا نظام طے کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، اسپینش وزیر دفاع

امریکا اور اسرائیل کو دنیا کا نظام طے کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، اسپینش وزیر دفاع

اسپین کا یہ مؤقف نیٹو سے علیحدگی نہیں اور نہ ہی ملک امریکی افواج کے انخلا پر غور کر رہا ہے، مارگریٹا روبلز

ایران جنگ پر عالمی صف بندی میں بڑی دراڑ سامنے آ گئی جہاں اسپین نے امریکا اور اسرائیل کے مؤقف کو کھل کر چیلنج کر دیا ہے۔

اسپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے پارلیمانی کمیٹی میں دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل اکیلے دنیا کا نظام طے نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پوری دنیا ان کی جنگ میں شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ دو ممالک پوری دنیا کو اپنی جنگ میں دھکیل دیں۔

وزیر دفاع نے ایران جنگ کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسپین نے تنازع کے آغاز سے ہی امریکی فوجی اڈوں اور اپنی فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن نے اسپین سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی تاہم اس درخواست میں آپریشن کی نوعیت، مدت اور مقاصد سے متعلق اہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مارگریٹا روبلز نے خبردار کیا کہ یہ جنگ طویل اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے کیونکہ ابھی تک اس کے اصل مقاصد بھی واضح نہیں آیا یہ سیاسی، معاشی یا کسی اور مقصد کے لیے لڑی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسپین کا یہ مؤقف نیٹو سے علیحدگی نہیں اور نہ ہی ملک امریکی افواج کے انخلا پر غور کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اسپین کو خبردار کر چکے ہیں کہ ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے پر تجارتی تعلقات ختم کیے جا سکتے ہیں، تاہم اسپین کے وزیر معیشت نے واضح کیا ہے کہ اب تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت متاثر نہیں ہوئی۔

Related posts

DCT ابوظہبی نے امارات بھر میں سمر کیمپوں کے ساتھ منفرد تجربات سے پردہ اٹھایا

متحدہ عرب امارات کے صدر، VPs نے جمہوریہ کوریا کے نئے وزیر اعظم کو مبارکباد دی۔

حمدان بن محمد نے دبئی کے مربوط ڈیجیٹل ٹوئن پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔