امریکی مشکلات میں اضافہ، روس نے ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا
گزشتہ عرصے کے دوران ماسکو اور تہران کے تعلقات میں نمایاں قربت دیکھنے میں آئی ہے
عالمی منظرنامے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ولادیمیر پوٹن نے نوروز کے موقع پر ایران کے لیے اپنے پیغام میں مکمل حمایت کا اظہار کر دیا ہے، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی بساط میں ایک بڑا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
روسی صدر نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ مشکل حالات میں روس، ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور دیرینہ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے لیے استقامت اور کامیابی کی دعا بھی کی۔
گزشتہ عرصے کے دوران ماسکو اور تہران کے تعلقات میں نمایاں قربت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مختلف معاہدوں نے اس شراکت داری کو مزید گہرا کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ماضی میں روس زیادہ تر کشیدگی کم کرنے پر زور دیتا رہا، تاہم اب اس کا لہجہ کہیں زیادہ واضح اور دوٹوک دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں روسی صدر کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز بھی زیر بحث آئی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کا منصوبہ شامل تھا، تاہم اس تجویز کو واشنگٹن نے قبول نہیں کیا۔
ادھر بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ روس ایران کو خطے میں امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، تاہم کریملن نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
