عالمی منڈی میں ہلچل، عراق کا تمام آئل فیلڈز کی پیداوار معطل کرنے کا فیصلہ
برآمدات رکنے سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی حد سے تجاوز کر گئی، حکام
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے عالمی توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں عراق نے غیر ملکی کمپنیوں کے زیر انتظام تمام آئل فیلڈز پر فورس میجر نافذ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار معطل کرنے کا ہنگامی فیصلہ کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ غیر معمولی اقدام اس وقت سامنے آیا جب آبنائے ہرمز میں شدید فوجی سرگرمیوں کے باعث جہاز رانی تقریباً مفلوج ہو گئی، جس کے نتیجے میں عراق کی بیشتر تیل برآمدات رک کر رہ گئیں۔
یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس ترسیل اسی اہم گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
عراقی وزارتِ تیل کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ بین الاقوامی آئل کمپنیاں تیل اٹھانے کے لیے ٹینکرز نامزد کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ سرکاری کمپنی سومو برآمدات کے لیے مکمل تیار تھی۔
برآمدات رکنے سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی حد سے تجاوز کر گئی، جس نے حکام کو پیداوار مکمل بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
ادھر خطے میں جاری امریکا-اسرائیل ایران کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے توانائی بحران کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
وزارتِ تیل نے واضح کیا ہے کہ فورس میجر کے تحت کیے گئے اس اقدام پر کمپنیوں کو کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا جائے گا، جبکہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔
ساتھ ہی غیر ملکی شراکت داروں کو ہنگامی مذاکرات کی دعوت بھی دے دی گئی ہے تاکہ محدود آپریشنز، اخراجات اور عملے کے معاملات طے کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف عالمی تیل سپلائی شدید متاثر ہوگی بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان بھی جنم لے سکتا ہے۔
