سونا سستا، ڈالر اور تیل مہنگا: جنگ کا کسے فائدہ ہورہا ہے؟
امریکا مضبوط ڈالر اور سرمائے کے بہاؤ سے معاشی فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن صورتحال حتمی نہیں۔
معاشی طور پر جنگ نے ڈالر کو مضبوط کیا ہے اور باقی تمام دنیا کی کرنسیوں کو کمزور کردیا لیکن اس فائدے کے لئے کتنے ڈالر امریکہ نے جنگ میں جھونکے؟
جب جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو سرمایہ کاروں نے روایتی طور پر محفوظ اثاثوں کا رخ کیا جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت میں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.5 سے 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم سونا فوری طور پر 6 ہزار ڈالر فی اونس کی متوقع سطح تک نہیں پہنچ سکا بلکہ مضبوط امریکی ڈالر اور لیکویڈیٹی کے دباؤ کی وجہ سے تقریباً 5 ہزار سے 5 ہزار 100 ڈالر فی اونس کی حد تک واپس آگیا۔
امریکی ڈالر کی مضبوطی نے اس صورتحال میں مرکزی کردار ادا کیا۔ عالمی سرمایہ امریکی اثاثوں کی طرف منتقل ہوا جس سے ڈالر کو تقویت ملی اور ڈالر میں قیمت شدہ سونے پر دباؤ آیا۔
اس کے برعکس یورو، جاپانی ین، برطانوی پاؤنڈ اور کئی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں کے مقابلے میں سونا نسبتاً مستحکم یا زیادہ مضبوط نظر آیا۔ کمزور مقامی کرنسی رکھنے والے ممالک میں سونے نے مؤثر ہیج کا کردار ادا کیا۔
فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا مضبوط ڈالر اور سرمائے کے بہاؤ سے معاشی فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن صورتحال حتمی نہیں۔
اگر جنگ طویل ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں توانائی بحران، مہنگائی میں اضافہ یا مالیاتی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سونا دوبارہ تیزی پکڑسکتا ہے اور بلند اہداف کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
موجودہ مرحلہ بنیادی کمزوری نہیں بلکہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور قلیل مدتی مارکیٹ پوزیشننگ کی عکاسی کرتا ہے- دفاعی یا اسٹیٹجک نتائج کچھ بھی ہوں- معاشی طور پر ابھی تک امریکا فائدہ میں ہے-
