امریکی سپر کیریئر بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کے دہانے پر پہنچ گیا
ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی ایران کے لیے ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہو سکتی ہے
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے ماحول میں امریکا کی بحری طاقت کی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پیش رفت کیا ہے؟
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپ آبنائے جبل الطارق عبور کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی سمت بڑھ رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا نیا دور شروع ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔
ممکنہ عسکری پیغام
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کرنے کی منظوری دی تھی، جبکہ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز چند روز میں خطے کے قریب پہنچ کر آپریشنل تیاری مکمل کر لے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی ایران کے لیے ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہو سکتی ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
آپریشنل سرگرمیاں
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری تصاویر میں جہاز کے عرشے سے F/A-18 Super Hornet لڑاکا طیاروں کی پرواز دکھائی گئی، جو بحریہ کی جنگی تیاری اور طاقت کا عملی مظاہرہ سمجھی جا رہی ہے۔
خطے پر اثرات
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ مذاکرات اور عسکری دباؤ کا بیک وقت جاری رہنا عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
