حکومتی قرضوں کا پہاڑ بلند تر، ماہانہ بنیاد پر بھی تیزی سے اضافہ
قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، ماہرین معاشیات
حکومتی قرضوں میں اضافے کا سلسلہ تھم نہ سکا اور مرکزی حکومت کا مجموعی قرض خطرناک حد تک بڑھ کر 78.5 ٹریلین روپے تک جا پہنچا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر 9.6 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مرکزی حکومت کا قرض 49.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 55.4 ٹریلین روپے ہوگیا، جس میں سالانہ 11 فیصد اور ماہانہ 1.4 فیصد اضافہ شامل ہے۔ دوسری جانب بیرونی قرض بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک بیرونی قرض سالانہ 6 فیصد اور ماہانہ 1 فیصد اضافے کے بعد 23.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ امریکی ڈالر میں دیکھا جائے تو مرکزی حکومت کا بیرونی قرض دسمبر 2025 میں بڑھ کر 82.7 ارب ڈالر ہو گیا، جو نومبر 2025 میں 81.7 ارب ڈالر تھا، جبکہ جون 2025 میں یہ 82.5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، خصوصاً سود کی ادائیگیوں اور بجٹ خسارے کے تناظر میں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر محصولات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو آئندہ مالی سال میں قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
