اسلام آباد: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی سنگین انتظامی غفلت کے باعث 40 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے۔
آڈٹ دستاویزات کے مطابق جہازوں کے انجنز، اے پی یوز اور لینڈنگ گئیرز کی واپسی میں طویل تاخیر کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2017 سے 2022 کے دوران مرمت کے لیے بیرون ملک بھیجے گئے 12 انجنز تاحال واپس نہیں لائے جاسکے۔ اسی طرح 2020 میں بھیجے گئے 3 اے پی یوز اور 2021 میں بھیجے گئے 3 لینڈنگ گئیرز بھی واپس نہ آسکے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں صرف 5 انجنز کی مد میں 5.96 ارب روپے کا لیز رینٹل فضول ضائع ہوا۔ مزید یہ کہ عدم ادائیگی کے باعث اثاثوں کو واپس نہ لایا جاسکا جبکہ پی آئی اے نے اپنی مالی دشواری کو وجہ بتایا، تاہم آڈٹ حکام نے اس وضاحت کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر متعدد یاد دہانیوں کے باوجود معاملے کے حل کے لیے اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ رواں سال بھی تین بار یاد دہانی کے باوجود ڈی اے سی اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔
