جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نیشنل انٹیلیجنس سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی کم عمر بیٹی کم جو اے کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے جمعرات کو قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف شواہد اور حالیہ سرکاری تقریبات میں کم جو اے کی بڑھتی ہوئی نمایاں موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ اب باقاعدہ طور پر جانشینی کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔
کم جو اے کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے اہم سرکاری تقریبات میں اپنے والد کے ہمراہ نظر آرہی ہیں جن میں فوجی پریڈز، کورین پیپلز آرمی کی سالگرہ کی تقریب اور کمسوسان پیلس آف دی سن کا دورہ شامل ہے۔ ستمبر میں انہوں نے بیجنگ کا دورہ بھی کیا جو ان کا پہلا غیر ملکی سفر تھا۔
جنوبی کوریائی رکن پارلیمنٹ لی سونگ کوئن کے مطابق کم جو اے پہلے ’’جانشین کی تربیت‘‘ کے مرحلے میں تھیں تاہم اب وہ باضابطہ طور پر ’’جانشین نامزد‘‘ کیے جانے کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بعض ریاستی پالیسی معاملات پر ان کی رائے کے آثار بھی سامنے آئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عملی طور پر دوسرے اعلیٰ ترین رہنما کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
کم جو اے کو 2022 میں پہلی بار سرکاری ٹی وی پر دکھایا گیا تھا، جب وہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے شمالی کوریا کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا معائنہ کررہی تھیں۔
اس کے بعد وہ اکثر سرکاری میڈیا میں نمایاں انداز میں دکھائی دیتی رہی ہیں جسے مبصرین کم جونگ اُن کی سخت گیر شبیہ کو نرم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکثر اپنے والد کے شانہ بشانہ چلتی اور تصاویر میں نمایاں مقام پر کھڑی نظر آتی ہیں جو شمالی کوریا جیسے ملک میں غیر معمولی بات ہے جہاں علامتی انداز بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
کم جو اے کم جونگ اُن اور ان کی اہلیہ ری سول جو کی واحد معروف اولاد ہیں۔ اگرچہ جنوبی کوریا کی ایجنسی کا خیال ہے کہ کم جونگ اُن کا ایک بڑا بیٹا بھی ہے لیکن اسے کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔
کم جو اے کا انکشاف پہلی بار 2013 میں امریکی باسکٹ بال کھلاڑی ڈینس راڈمین نے کیا تھا، جنہوں نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے شمالی کوریا کے دورے کے دوران ’’ننھی جو اے‘‘ کو گود میں لیا تھا۔
تاہم کم عمر بیٹی کو جانشین بنائے جانے کا امکان کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کی بالادستی مضبوط سمجھی جاتی ہے۔
ماضی میں کئی تجزیہ کاروں نے کسی خاتون کے شمالی کوریا کی قیادت سنبھالنے کے امکان کو بعید از قیاس قرار دیا تھا تاہم کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کی اعلیٰ سیاسی حیثیت اس تاثر کی جزوی نفی کرتی ہے۔
یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ نسبتاً نوجوان اور بظاہر صحت مند کم جونگ اُن نے ابھی سے صرف 13 سالہ بیٹی کو جانشین نامزد کیوں کیا۔ اس فیصلے کے شمالی کوریا کی داخلی و خارجی پالیسی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
