جمعرات سے زمبابوے میں انڈر 19 ورلڈکپ کا آغاز ہورہا ہے ٹورنامنٹ میں 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں چار گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے ہر گروپ میں دو بڑی ٹیمیں اور دس چھوٹی ٹیمیں رکھی گئی ہیں تاکہ گروپ میں توازن رہے۔
یہ 16واں ٹورنامنٹ ہے اس سے قبل 15 مرتبہ انڈر 19 ٹورنامنٹ ہوچکے ہیں، انڈیا نے سب سے زیادہ پانچ مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے جبکہ آسٹریلیا چار دفعہ جیت چکا ہے پاکستان نے دو دفعہ جبکہ انگلینڈ ساؤتھ افریقہ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش نے ایک مرتبہ جیتا ہے نیوزی لینڈ اور سری لنکا نے اب تک اگرچہ فائنل تک رسائی تو حاصل کی لیکن فائنل جیت نہ سکے۔
پاکستان نے 2004 اور 2006 میں یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے خالد لطیف کی کپتانی میں بنگلہ دیش میں اور سرفراز احمد کی کپتانی میں سری لنکا میں پاکستان فتح یاب ہوا تھا، سرفراز احمد تو ایک کامیاب کیرئیر کے بعد آج پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں جبکہ خالد لطیف فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہوکر کرکٹ سے بہت دور جاچکے ہیں۔
رواں ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا دفاعی چیمپئین ہے لیکن اسے زمبابوے میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا ہوگا، ٹورنامنٹ کا آغاز امریکہ اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان مقابلے سے ہوگا جو بولاوایو میں کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ورلڈ کپ، بارش کے باوجود پاکستانی ٹیم کا مسونگو میں پریکٹس سیشن
پاکستان انڈر 19 ٹیم نے گزشتہ چند ماہ سے زبردست کارکردگی دکھائی ہے خاص طور سے ایشیا انڈر 19 کپ میں انڈیا کو جس طرح فائنل میں شکست دی اس نے ٹیم کا حوصلہ بہت بلند کردیا ہے، جبکہ پاکستان اپنا پہلا میچ جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا۔
پاکستانی ٹیم کے سب سے اچھے بلے باز سمیر منہاس ہیں جنہوں نے ایشیا کپ فائنل میں انڈیا کے خلاف 172 رنز کی اننگز کھیلی جس نے میچ کا نقشہ پلٹ دیا تھا اس کے بعد بھی انہوں نے کئی شاندار اننگز کھیلی ہیں ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ عثمان خان نائب کپتان اور احمد حسن بھی عمدہ بلے باز ہیں کپتان فرحان یوسف مڈل آرڈر میں بااعتماد بلے باز ہیں، مڈل آرڈر میں علی حسن بلوچ ایک قابل اعتماد کھلاڑی ہیں جو وکٹ پر رکنے کا فن جانتے ہیں۔
پاکستان کی بولنگ بھی گزشتہ کئی ماہ سے عمدہ کارکردگی دکھارہی ہے علی رضا فاسٹ بولر ہیں علی رضا پشاور زلمی کی نمائندگی کرچکے ہیں ان کی فاسٹ بالنگ نے انڈیا کی ٹیم کو ایشیا کپ میں بہت پریشان کیا تھا انہیں وقار یونس نے پاکستان کا مستقبل قرار دیا تھا۔
ان کے علاوہ عبدالسبحان اور محمد صیام بھی عمدہ فاسٹ بولرز ہیں جبکہ سمیر منہاس اپنے بھائی عرفات منہاس کی طرح لیگ بریک بولنگ کرتے ہیں وہ اور مومن قمر اسپنرز ہونگے۔
پاکستان ٹیم کی سب سے شاندار بات سرفراز احمد کی ڈگ آؤٹ میں موجودگی ہے سرفراز کا جوش اور سخت محنت نے ٹیم میں نئی روح پھونک دی ہے۔
اگر تمام ٹیموں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے علاوہ انڈیا ساؤتھ افریقہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں بھی خاصی مضبوط ہیں انڈیا کی ٹیم میں 14 سالہ سوریاونشی پر سب کی نظریں ہونگی جو گزشتہ آئی پی ایل سے خبروں میں ہیں، سوریا ونشی کی جارحانہ بیٹنگ حریف ٹیموں کو سخت مقابلہ دے گی ان کے علاوہ کئ دوسرے کھلاڑی بھی اچھی فارم میں ہیں۔
نوجوان کھلاڑیوں کے اس ٹورنامنٹ سے یقینی طور پر کچھ مستقبل کے ستارے بھی ابھریں گے لیکن سب سے زیادہ اس بات پر نظر ہوگی کہ وہ ایک بڑے مقابلے میں کیسے اچھی کارکردگی کا دباؤ برداشت کرتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ٹورنامنٹ بہت اہم ہے اور قومی ٹیم کے لیے کچھ ایسے کھلاڑی ملنے کی امید ہے جو مستقبل میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی بن سکتے ہیں۔
