پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ سلطان راہی کو بچھڑے 30 برس ہوگئے
سلطان راہی کا قتل پنجابی فلم انڈسٹری کے لیے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا
پاکستان فلم انڈسٹری آج نامور اداکار سلطان راہی کی 30ویں برسی منارہی ہے۔
فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والے سپر اسٹار سلطان راہی 9 جنوری 1996 کی رات راولپنڈی سے لاہور آرہے تھے کہ گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بن کر جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
سلطان راہی کے قتل کے وقت بھی ان کی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔ سلطان راہی کا قتل پنجابی فلم انڈسٹری کے لیے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور ان کی کمی آج تک پوری نہیں ہو سکی۔
سلطان راہی نے اپنے فنی سفر کا آغاز فلم ’باغی‘ سے کیا۔ 70 کی دہائی میں ’بشیرا‘ اور ’مولا جٹ‘ جیسی فلموں کی کامیابی نےان کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد ہیرو تھے اور یہ دور کئی سال تک جاری رہا۔ ہدایت کار یونس ملک کی فلم ’مولا جٹ‘ میں ان کے کردار ’مولے‘ کو برصغیر میں زبردست شہرت ملی۔
پاکستان فلم انڈسٹری کے مقبول ترین اداکار سلطان راہی کا نام ایک زمانے میں پنجابی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔
’سالا صاحب‘، ’چن جٹ‘، ’شیر خاں‘، ’شعلے‘، ’جرنیل سنگھ‘، ’شیراں دے پتر‘، ’میڈم رانی‘، ’چن وریام‘ سمیت 700 سے زائد فلموں میں لازوال کردار ادا کرنے اور 150 سے زائد اعلیٰ فلمی ایوارڈز حاصل کرنے والے سلطان محمد المعروف سلطان راہی 1938 میں بھارت کے شہر سہارن پور میں پیدا ہوئے، تاہم قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔
