مادورو کی گرفتاری چینی سوشل میڈیا پر تائیوان کے لیے ’’بلیو پرنٹ‘‘ قرار
مادورو حکومت کو چین کا ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھا جاتا تھا
بیجنگ: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو چین کے لیے ایک سنگین اسٹریٹجک نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم چینی سوشل میڈیا پر اس کارروائی کو تائیوان کے خلاف مستقبل کی کسی ممکنہ کارروائی کا عملی نمونہ قرار دے کر سراہا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق مادورو چین کا قریبی اتحادی تھا اور اس کی اچانک گرفتاری نے لاطینی امریکا میں بیجنگ کے اثر و رسوخ کو کمزور کیا ہے۔
چین نے وینزویلا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور مادورو حکومت کو ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھا جاتا تھا۔
دوسری جانب چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مادورو کی گرفتاری کے طریقۂ کار پر غیر معمولی بحث جاری ہے۔
متعدد صارفین اور قوم پرست تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس انداز میں محدود وقت، جدید انٹیلیجنس اور ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے ایک طاقتور صدر کو حراست میں لیا گیا، وہ تائیوان کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے لیے ’’بلیو پرنٹ‘‘ بن سکتا ہے۔
چینی آن لائن تبصروں میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر امریکا کسی خودمختار ملک کے صدر کو اس طرح گرفتار کر سکتا ہے تو طاقت کے توازن اور عالمی قوانین پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں، اور یہی ماڈل مستقبل میں بڑی طاقتوں کے باہمی تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مادورو کی گرفتاری نے نہ صرف چین کو سفارتی سطح پر دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ تائیوان، امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں بھی ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے۔
