کراچی، رعایت ختم، قانون حرکت میں آگیا، تجاوزات مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
کارروائیاں تمام اضلاع میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کی گئیں
شہر قائد کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو ذاتی جاگیر سمجھنے والوں کے خلاف آخرکار سخت کارروائی شروع ہو گئی ہے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی ہدایت پر شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف تابڑ توڑ آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 91 ہوٹلز سمیت 338 دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کی گئی دو روزہ انکروچمنٹ آپریشن رپورٹ کے مطابق سیل کی جانے والی تمام دکانوں کے باہر قائم ٹھیلے، پتھارے اور دیگر غیر قانونی تجاوزات بھی ضبط کر لی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ کارروائیاں تمام اضلاع میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ 284 دکانیں سیل کی گئیں، جبکہ شرقی میں 23، وسطی میں 14، کیماڑی میں 3، کورنگی میں 11، ملیر میں 1 اور غربی میں 2 دکانیں سربمہر کی گئیں۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیل کی جانے والی بیشتر دکانوں کے باہر پہلے بھی تجاوزات ختم کرائی گئی تھیں مگر دوبارہ قائم کر دی گئیں۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ تجاوزات مافیا نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے، تاہم اب ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔
سید حسن نقوی نے بتایا کہ دکانداروں کو بارہا ازخود تجاوزات ختم کرنے کی تنبیہ کی جا چکی تھی، مگر ہدایات کو نظرانداز کرنے پر اب قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
