ماسکو: روس نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مسلح جارحیت‘‘ قرار دیا ہے۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے پیش کی گئی وجوہات ناقابلِ قبول ہیں۔
بیان کے مطابق نظریاتی دشمنی نے عملی حقیقت پسندی اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات کی کوششوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
ماسکو نے، جو وینزویلا کا قریبی اتحادی ہے، مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس سفارتی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
وزارتِ خارجہ نے وینزویلا کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بولیویرین قیادت کی قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں: امریکا کا وینزویلا پر حملہ؛ صدر اور اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا، ٹرمپ
روس کے سفارت خانے نے بتایا کہ کراکس میں سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وینزویلا کی حکومت اور وہاں موجود روسی شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
سفارت خانے کے مطابق حملوں میں کسی روسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ہفتے کے روز وینزویلا میں ’’بڑے پیمانے پر حملہ‘‘ کیا، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’شاندار آپریشن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بہترین منصوبہ بندی اور اعلیٰ درجے کی فوجی صلاحیت شامل تھی۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے مادورو کی موجودگی کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی گرفتاری کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ ایک خودمختار ریاست کی خودمختاری پر ناقابلِ قبول حملہ ہوگا۔
ادھر امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ہفتے کے روز فلوریڈا کے علاقے پام بیچ میں واقع مار-اے-لاگو ریزورٹ میں نیوز کانفرنس کریں گے۔
سی این این کے مطابق وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پادرینو لوپیز نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکی جنگی ہیلی کاپٹروں سے میزائل اور راکٹ داغے گئے۔
وزیر دفاع کے مطابق حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حملوں میں کتنے افراد زخمی یا ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ حملہ ملک پر ہونے والی سب سے بڑی جارحیت ہے اور وینزویلا غیر ملکی فوجی موجودگی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گزشتہ چند ماہ سے امریکا نے کیریبین خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر رکھا ہے، جہاں ہزاروں فوجی اور درجن سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے جا چکے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ستمبر سے اب تک منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ ماضی میں وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش کا بھی اظہار کرتے رہے ہیں اور کراکس کی قیادت پر ’’نارکو دہشت گردی‘‘ کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
