اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع
اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا اگلا مرحلہ 2 اور 3 جون کو منعقد ہوگا
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید 45 روز کی توسیع پر اتفاق ہوگیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے دوران اسرائیل اور لبنان نے سیزفائر برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے کہا کہ مذاکرات انتہائی مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے جس کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا اگلا مرحلہ 2 اور 3 جون کو منعقد ہوگا جب کہ 29 مئی کو پینٹاگون میں دونوں ممالک کے فوجی وفود کے درمیان سیکیورٹی امور پر بات چیت شروع کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی جنگ بندی 16 اپریل 2026 کو امریکی ثالثی کے تحت طے پائی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ 10 روزہ سیزفائر پر مشتمل تھا جسے بعد میں تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکا میں ہونے والے متعدد مذاکراتی ادوار میں امریکی وزارت خارجہ نے اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مزید 45 دن کی توسیع پر آمادہ کرلیا اگرچہ جنگ بندی 16 اپریل سے نافذ العمل ہے تاہم سرحدی علاقوں میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔
اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملے جاری رہے جب کہ حزب اللہ کی طرف سے بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرے اور حملے بند کرے جب کہ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حزب اللہ کو پہلے غیر مسلح کیا جائے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود حزب اللہ نے اب تک براہ راست مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے حالانکہ یہ تنظیم لبنانی پارلیمان کا حصہ بھی ہے۔
