پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، پیٹرول پمپس کے لیے کوٹہ مقرر
تمام پیٹرول پمپس کو چھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے کوٹہ دیا جارہا ہے، پیٹرولیم ڈیلرز
مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بعد ملک بھر کے لیے پیٹرول پمپس کے لیے کوٹہ مقرر کردیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ملک بھر کی تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کے لیے کوٹہ مقرر کردیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق تمام پیٹرول پمپس کو چھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے کوٹہ دیا جارہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تمام پمپوں کو سپلائی یقینی بنانا ہے تاکہ کہیں پر ذخیرہ اندوزی نہ ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پیٹرول پمپس کی طرف سے بڑے پیمانے پر آرڈرز دیے جارہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ منافع کے حصول کے لیے وہ پمپس بھی زیادہ آرڈر کر رہے ہیں جن کی فروخت کا چھ ماہ کا اوسط کم ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ عوام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے ان پر دوہری چوٹ پڑے گی۔
صورت حال کے پیش نظر پیٹرولیم ڈیلرز نے بھی ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے۔ وہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں کراچی میں اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ملک بھر میں پیٹرول کی صورتحال اور ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے متعلق اہم انکشافات کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور صورتحال اگر مزید بگڑتی ہے تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں جس کا براہ راست اثر پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں پر پڑے گا۔
