بھارت کھیلوں میں سیاست سے باز نہ آیا، بنگلہ دیشی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر
بھارتی اداکار شاہ رخ خان کی ملکیتی کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 9.2 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا تھا
نئی دہلی: بھارت ایک بار پھر سیاسی لڑائی کھیل کے میدانوں میں لڑنے پر بضد ہے، تازہ ترین واقعے میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل سے باہر کردیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انتہا پسند ہندوتوا جماعت شیوسینا کے مطالبے پر بنگلادیشی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کی ملکیت فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو حکم دیا ہے کہ بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے نکال دیا جائے۔
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کی ہے کہ بورڈ نے اس حوالے سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو باضابطہ طور پر ہدایت جاری کی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میچ کے دوران خاتون میچ کے بجائے موبائل پر کچھ اور دیکھنے میں مصروف
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ نے یہ اقدام بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد آنے والی شدید کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد ویزا پابندیاں، سفارتی احتجاج اور سفارتی مشنز کے قریب بدامنی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
مستفیض الرحمان آئی پی ایل کی تاریخ کے معروف غیر ملکی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور 2016 سے اب تک سن رائزرز حیدرآباد، ممبئی انڈینز، راجستھان رائلز، دہلی کیپیٹلز اور چنئی سپر کنگز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
انہوں نے 60 آئی پی ایل میچز میں 65 وکٹیں حاصل کیں اور گزشتہ نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 9.2 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا تھا۔ وہ آئی پی ایل 2026 کے لیے معاہدہ حاصل کرنے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی تھے۔
اس وقت مستفیض الرحمان بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں رنگپور رائیڈرز کی جانب سے کھیل رہے ہیں اور ان کے خلاف نہ تو کسی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور نہ ہی کارکردگی میں ایسی کمی جو اچانک اخراج کا جواز بن سکے۔
