ٹک ٹاک صارفین کے لئے بڑی خب

مشہور ویڈیو ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرکے غیرقانونی اور خفیہ طور پر چین کو فراہم کر رہی ہے۔

کیلیفورنیا فیڈرل کورٹ میں دائر کیے گئے ایک مقدمے میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک اور اس کی چین مالک کمپنی “بائٹ ڈانس” نے مبہم پرائیویسی پالیسی بھی بنا رکھی ہے اور وہ اپنے صارفین کی ڈرافٹ کردہ ویڈیوز بھی ان کی مرضی کے بغیر حاصل کرتی ہے۔

مقدمے میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ٹک ٹاک صارفین کی شناخت، پروفائل کا استعمال یہاں تک کے انہیں ٹریک بھی کر سکتی ہے۔

مقدمے میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے ٹک ٹاک اپنے صارفین کو مخصوص اشتہارات دکھاتی ہے۔

ٹک ٹاک دنیا کی تیسری مقبول ترین موبائل ایپلیکیشن ہے اور اس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ ہے۔

یہ مقدما ایک طالبہ مسٹی ہانگ نے دائر کیا۔ کیسمیں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیسے ہی کوئی صارف اپنی ویڈیوبناتا ہے تو “نیکسٹ” بٹن پر کلک کرتے ہی صارف کی مرضی کے بغیر وہ ویڈیو مختلف ڈومینز پر چلی جاتی ہے اور یہ عمل ویڈیو محفوظ کرنے یا پوسٹ کرنے سے قبل ہی ہو چکا ہوتا ہے۔

 

Related posts

متحدہ عرب امارات کا موسم: آج بارش، گرد آلود ہواؤں اور کھردری سمندروں کی پیشن گوئی

دبئی نے ‘ہماری لچکدار سمر’ کے 2026 ایڈیشن کے ساتھ مزید لچکدار سرکاری کام کے ماحول کو آگے بڑھایا۔

ایران ہمارے ساتھ اچھی ڈیل چاہتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں، مارکو روبیو