یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے تاریخی خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا ہے جو طاقت کے بل پر جیتا جاسکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور جو فتح اسرائیل کو ملی، وہ امریکی ہتھیاروں کی بدولت ممکن ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیل کو ہم نے بہت سے جدید ہتھیار فراہم کیے، حتیٰ کہ وزیراعظم نیتن یاہو ایسے ہتھیار بھی مانگتے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی اور عرب ممالک نے بھی امن کے لیے بھرپور تعاون کیا ہے۔
انہوں نے سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے کہا تھا کہ میں جنگیں کرانے والا شخص ہوں، جبکہ میری شخصیت اس کے برعکس، جنگیں ختم کرانے والی ہے۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ مارکو روبیو امریکا کی تاریخ کے سب سے عظیم سیکریٹری خارجہ ثابت ہوں گے، جبکہ یرغمالیوں کی رہائی امریکا کی بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، اور دعا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں یہ امن پائیدار رہے۔
خطاب کے دوران احتجاج کرنے والے ایک رکنِ پارلیمنٹ کو سیکیورٹی اہلکاروں نے باہر نکال دیا، جس پر صدر ٹرمپ نے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ آج مشرقِ وسطیٰ میں ایک تاریخی صبح طلوع ہوئی ہے، اور یہ امن خطے کے لیے نئی شروعات ثابت ہوگا۔
