بھارتی فوج نے تلنگانہ میں مسلمانوں سے تدفین کا حق بھی چھین لیا

بھارتی ریاست تلنگانہ کے شیک پت علاقے میں مسلمانوں کے لیے مخصوص قبرستان کی زمین پر بھارتی فوج نے زبردستی قبضہ کرلیا جس کے بعد مقامی کمیونیٹی اپنے بنیادی تدفینی حق سے بھی محروم ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قبرستان کے لیے مختص 2,500 مربع گز زمین بورابنڈا، یوسف گوڈا، ایرراگڑھا اور رحمت نگر کے مسلمانوں کی تدفینی ضروریات کے لیے وقف کی گئی تھی۔

یہ زمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے باقاعدہ ریکارڈز میں بطور سرکاری وقف ملکیت درج تھی تاہم بھارتی فوج نے تمام دستاویزی شواہد کو نظرانداز کرتے ہوئے اس پر جبراً قبضہ کرلیا۔

رپورٹس کے مطابق کانگریس کی زیر قیادت سول حکومت اس معاملے پر مکمل طور پر بے بس نظر آ رہی ہے۔

مقامی مسلمانوں نے بھارتی فوج کے اس اقدام اور کانگریس حکومت کی خاموشی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے بنیادی مذہبی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی یہ کارروائی ریاستی طاقت کے ذریعے اقلیتوں کے مذہبی حقوق کو دبانے کی بدترین مثال ہے۔

ان کے مطابق قبرستان پر قبضہ صرف زمین ہتھیانے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مذہبی کمیونیٹی کو اس کی مقدس ضروریات سے محروم کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔

سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے کو بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے ریاستی جبر اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کی ایک اور کڑی قرار دیا ہے۔

Related posts

دبئی فیوچر سلوشنز پروگرام متحدہ عرب امارات کی توسیع میں عالمی یونیورسٹی اسٹارٹ اپس کو آگے بڑھاتا ہے۔

ایران شکست مان لے تو بھی اسے فاتح کہیں گے، ٹرمپ امریکی میڈیا پر برس پڑے

ترکیہ میں فائرنگ؛ 4 افراد جاں بحق اور 8 زخمی