اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں غزہ کو مکمل قبضے میں لینے پر غور

اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں غزہ کو مکمل قبضے میں لینے پر غور کیاگیا۔ تاہم اس سلسلے میں آپریشن آئندہ چند ہفتے میں شروع ہونے کا امکان ہے ۔

اسرائیلی فوج نے گزشتہ 3 ہفتوں میں غزہ شہر کے اطراف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ جمعے کوامداد کی ترسیل کے لیے دی جانے والی عارضی مہلت ختم کرکے علاقے کو خطرناک جنگی زون قرار دے دیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اتوارکی شام کابینہ اجلاس میں غزہ شہر پر قبضے کے اگلے مراحل پر غور کیاگیا۔ اسرائیل غزہ پر قبضے سے  قبل شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق کئی ہزار افراد پہلے ہی شہر چھوڑ کر وسطی اور جنوبی علاقوں کا رخ کرچکے ہیں۔

غزہ شہر میں اب بھی دو ملین کی آبادی کا تقریباً نصف موجود ہے۔

اسرائیلی فوج نے سیاسی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اس آپریشن سے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔

اسرائیل میں جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہروں میں تیزی آگئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے شروع ہوئی تھی۔جس میں تقریباً 1,200 اسرائیلی شہری ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔

ان میں سے 48 یرغمالیوں میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کی اطلاع ہے۔

Related posts

میناب اسکول حملہ؛ امریکی صدر نے ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے نیا بیان دے دیا

متحدہ عرب امارات کے صدر نے شامی وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔

جنیوا میں ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کا اقوام متحدہ دفتر کے سامنے احتجاج، خالصتان کے قیام کا مطالبہ