بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں نے تمام حدیں پار کردیں
مودی سرکار نے مسلمانوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینا مشکل بنادیا
بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں نے تمام حدیں پار کردی ہیں، آر ایس ایس کے اشاروں پر چلنے والی مودی سرکار نے مسلمانوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینا مشکل بنادیا۔
بھارتی جریدہ “دی نیو انڈین ایکسپریس” مودی حکومت کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم سامنے لے آیا، اتر پردیش کے علاقے غازی آباد میں سرکاری زمین کا الزام لگا کرایک مدرسہ گرادیا گیا جبکہ 2 بند کردیے گئے۔
مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ 2000ء سے رجسٹرڈ ہے اور تمام کاغذات بھی بالکل صحیح ہیں۔
اس موقع پر ہندورکشا دل کے صدر پنکی چوہدری نے مسلمانوں کے خلاف بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بلڈوزر سے دارالعلوم دیوبند کو بھی گرائیں۔
دوسری جانب دہرادون میں مسجد پر پابندی کے بعد انتہاپسندوں نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی عبادت شروع کردی۔
ماہرین کے مطابق مودی کی حکومت میں بھارت میں ہندوتوا کا نظریہ مضبوط ہوچکا ہے جس کا نشانہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنےوالے افراد بنتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد انہیں سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔
