معروف کار ساز کمپنی ہونڈا کو 70 سال میں پہلی بار تاریخی مالی نقصان کا سامنا
ہونڈا نے 2040 تک مکمل طور پر الیکٹرک یا فیول سیل گاڑیوں پر منتقل ہونے کا منصوبہ بھی ترک کر دیا ہے
معروف کار ساز کمپنی ہونڈا کو الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری مہنگی پڑ گئی کمپنی نے تقریباً 70 برس بعد پہلی مرتبہ سالانہ مالی خسارہ رپورٹ کر دیا ہے۔
جاپان کی دوسری بڑی آٹو کمپنی نے اپنی تازہ مالی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ الیکٹرک وہیکل کاروبار کی تنظیمِ نو پر 9 ارب ڈالر سے زائد لاگت آنے کے باعث کمپنی کو شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ 1957 میں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہونے کے بعد ہونڈا کی بدترین مالی صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر توشی ہیرو مابی نے بتایا کہ ہونڈا اب اپنے کئی بڑے ای وی اہداف واپس لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے 2030 تک اپنی نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 20 فیصد تک لے جانے کا ہدف ختم کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہونڈا نے 2040 تک مکمل طور پر الیکٹرک یا فیول سیل گاڑیوں پر منتقل ہونے کا منصوبہ بھی ترک کر دیا ہے جو اس سے قبل کمپنی کے بڑے وژن کا حصہ سمجھا جا رہا تھا۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ کینیڈا میں 11 ارب ڈالر کے مجوزہ ای وی اور بیٹری پلانٹ منصوبے کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ہونڈا کی جانب سے کینیڈا میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ہونڈا کی یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ روایتی آٹو کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیز رفتار منتقلی میں غیر یقینی مارکیٹ، کمزور طلب اور بڑھتے اخراجات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
